18 مارچ 2010 - 20:30

یوم عاشورکو تہران میں سامراجی ایجنٹوں نے اس یوم کا تقدس پامال کیا تھا جس کے خلاف پورے ایران میں کروڑوں کی تعداد میں لوگوں نے سڑکوں پرنکل کرمظاہرے کئے ۔

پورا اسلامی جمہوریہ ایران امریکہ مردہ باد برطانیہ مردہ باد اور صہیونی ریاست مردہ کے باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔ اس سلسلے کا سب سے بڑا اجتماع تہران کے انقلاب اسکوائرپرمنعقدہوا ہے جس میں دسیوں لاکھ عزادارن مظلوم کربلا اور ایران کے انقلابی عوام شریک تھے۔ مظاہرین اپنے ہاتھوں میں بینراورپلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جن پراسلامی نظام اورولایت فقیہ کے تئیں اپنی پوری وفاداری کا اعلان کیا۔ ان ریلیوں میں اسی طرح امریکہ وسامراج مخالف بینرزبھی بڑی تعداد میں دیکھے جارہے تھے۔ تہران کے تمام راستوں سے انقلاب اسکوائر کی جانب انقلابیوں کا ایک امڈتا ہوا سیلاب آرہا تھا جس نے غیرملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بھی مبہوت کررکھا تھا۔ اسی اثناء میں سب سے دلچسپ بات یہ تھی کہ بی بی سی اورمغرب کے ديگرذرائع ابلاغ جو تہران میں مٹھی بھرانقلاب دشمن عناصرکی تخریبی کاروائیوں کی حمایت کرتے ہوئے ان کی تعداد بڑھا چڑھا کرپیش کرتے ہيں آج پورے ملک میں عاشورائے حسینی کی حرمت کے تحفظ اورولایت فقیہ کے اصول کی پاسداری ميں کروڑوں کی شرکت سے نکالے جانےوالے جلوسوں پرمبہوت ہوگئے ہيں اورانھیں گویا سانپ سونگھ گیا ہے۔ پورے ملک ميں عاشورہ کی حرمت کے تحفظ کے حق ميں جوجلوس نکالے گئے ان میں عوام ایک بارپھر اپنے اسلامی نظام اورانقلاب سے وفاداری کا اعلان کرتے ہوئے رہبرانقلاب اسلامی کے فرمان پراپنی جان کی بازی لگانے کے عزم کا اعلان کیا۔ 

واضح رہے کہ عاشور کے دن امریکہ، برطانیہ اورصہیونی ریاست کی ایماء پرکچھ شرپسندعناصرنے تہران کی بعض سڑکوں پرنکل کرعزاداری کے جلوسوں پرحملہ کیا تھا اورعاشورہ کے تقدس کوپامال کرنے کے ساتھ ساتھ اسلامی جمہوری نظام کے اصولوں کےخلاف نعرے بازی کی تھی ۔ اس واقعہ پرپورے ایران کے عوام شدید برہم ہيں اورانھوں نےگذشتہ چنددنوں سے اس واقعہ کے خلاف مظاہروں کاسلسلہ  شروع کررکھا ہے اورآج پورے ملک میں بیک وقت یہ مظاہرے کئے گئے۔

مظاہرین مطالبہ کررہے ہيں کہ ان سامراجی ایجنٹوں کوسخت سے سخت سزادی جائے جنھوں نےدین اسلام اور عاشورہ کے تقدس کو پامال کرنے کی کوشش کی ہے  عاشورہ کے تقدس کوپامال کرنےوالوں کی امریکی صدرباراک اوبامہ اوربرطانوی وزیرمیلیبینڈ اور صہیونی وزیر اعظم ایہود بارک نے حمایت کی تھی۔

بشکریہ از: ریڈیو تہران